ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سی بی آئی نے کورٹ میں سجن کمار کو 1984 فسادات کا سرغنہ بتایا

سی بی آئی نے کورٹ میں سجن کمار کو 1984 فسادات کا سرغنہ بتایا

Mon, 08 Apr 2019 23:21:47    S.O. News Service

نئی دہلی ،08؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی تفتیشی بیورو نے کانگریس کے سابق رہنما سجن کمار کی ضمانت پر پیر کو سپریم کورٹ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے دوران ہوئے سنگین جرائم کے وہ سرغنہ تھے جس میں سکھوں کاقتل عام ہوا۔کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ سجن کمار نے دہلی ہائی کورٹ کے 17 دسمبر، 2018 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ہائی کورٹ نے سجن کمار کو ایک کیس میں مجرم ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔جسٹس ایس اے بوبڑے اور جسٹس ایس عبد النذیر کی بنچ نے سجن کمار کی ضمانت کی عرضی 15 اپریل کیلئے درج کرتے ہوئے انکوائری ایجنسی کو ہدایت دی کہ اس سابق ایم پی کے ملوث ہونے والے دیگر کیس کے مقدمے کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔تفتیشی بیورو کی جانب سے سالسٹر جنرل تشار مہتہ نے بنچ سے کہا کہ اگر سجن کمار کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو یہ انصاف کا مذاق ہوگا کیونکہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق ایک اور کیس میں پٹیالہ ہاؤس کی عدالت میں ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ سکھوں کا قتل عام ایک وحشیانہ جرم تھا۔کمار لیڈر تھے اور اس کے سرغنہ تھے۔سجن کمار کو ہائی کورٹ نے ایک اور دو نومبر، 1984 کی رات جنوبی مغربی دہلی کے راج شہر پارٹ ۔1 میں پانچ سکھوں کو زندہ جلانے اور راج نگر پارٹ ۔2 میں ایک گردوارے میں آگ لگانے کے واقعہ سے متعلق کیس میں سزا سنائی تھی۔اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی 31 اکتوبر، 1984 کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر سکھ مخالف فسادات بھڑک گئے تھے۔ان فسادات میں اکیلے دہلی میں ہی 2700 سے زائد سکھ مارے گئے تھے۔اس معاملے میں سماعت کے دوران سجن کمار کے وکیل نے بنچ سے کہا کہ اس معاملے کی ایک اہم گواہ نے پہلے چار بیان دیئے جن نے کمار کا نام ہی نہیں لیا تھا لیکن بعد میں اپنے بیان میں کانگریس کے اس سابق رہنما کا نام لیا۔


Share: